اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے صوبہ قم کے دورے کے اختتام پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ امریکی حکام ہی ایران کے خلاف پابندیاں لگانے میں پیش پیش تھے اس لئے آج انھیں ہی مذاکرات کو غلط راستے سے واپس لانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہییں- صدر روحانی نے امریکہ کو ایٹمی مذاکرات میں درپیش مشکلات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکیوں کا دباؤ نہ ہوتا تو پم یقینا تین یورپی ممالک کے ساتھ دو ہزار چار میں ہی کسی اتفاق رائے تک پہنچ جاتے- انھوں نے ایٹمی معاملے کو ملک کا ایک اہم ترین معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن ہاتھ میں تلوار لیے ہوئے ہے اور رہبر انقلاب اسلامی کی تعبیر کے مطابق دشمن کے ہاتھ میں ایک حربہ ہے جسےوہ اندھیرے میں چلا رہا ہے اور ہم دشمن کے ہاتھ سے تلوار چھین لینا چاہتے ہیں: صدر روحانی نے کہا کہ اس کی کلائی ہم نے پکڑ لی ہے اور اسے مروڑ رہے ہیں تاکہ وہ اسے چھوڑ دے ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی مذاکرات کی پوری بنیاد یہی چيز ہے- صدر مملکت حسن روحانی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہم پابندیوں کو غلط، غیرقانونی، ظالمانہ اور انسانی حقوق کے خلاف سمجھتے ہیں،کہا کہ اس بہانے کو واپس لینے کا بہترین راستہ مذاکرات ہیں اور اگر ہم کامیاب ہو گئے تو کامیاب ہو گئے اور اگر کامیاب نہ ہوئے تو ایسا ہونا چاہیے کہ دنیا خود فیصلہ کرے کہ قصور مقابل فریق ہے- انھوں نے کہا کہ امریکی کانگرس بھی اس نتیجے پر پہنچ گئی ہے کہ اگر مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوئے تو پھر ایران کے خلاف متحد نہیں ہوا جا سکتا-
.......
/169